خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت کو محفوظ کردہ فیصلہ سنانے سے روک دیا ہے۔

خصوصی عدالت کا فیصلہ رکوانے کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ اور سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل کی درخواستوں پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کی۔

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے سنگین غداری کیس کے مقدمے کا فیصلہ خصوصی عدالت نے محفوظ کیا تھا جسے جمعرات کو سنایا جانا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزارتِ داخلہ کی درخواست پر سماعت کے موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے عدالت سے استدعا کی کہ خصوصی عدالت کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ دینے سے روکا جائے۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سنگین غداری کیس میں پراسیکوشن ٹیم کے سربراہ مستعفی ہوئے تو نیا سربراہ بھی ایک سال تک تعینات نہیں کیا گیا۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے وفاق مشرف کے خلاف کیس چلانا ہی نہیں چاہتا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ نیا پراسیکیوشن کا سربراہ لگانا حکومت کا کام تھا یا عدلیہ کا؟ وفاقی حکومت کے خلاف اس پر قانونی کارروائی کیوں نہ کی جائے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہم چاہتے ہیں غلطی سدھار لی جائے تاکہ کل کو عدلیہ کے لیے بھی شرمندگی کا باعث نہ ہو جس رپ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ
عدلیہ کے لیے نہیں وفاقی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گی۔ کیا وزارت قانون کی کوئی ضرورت ہے؟

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ وزارتِ قانون کوئی نوٹی فکیشن کرتی ہے تو وہ غلط ہوتا ہے، وزارت داخلہ کی نااہلی کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت بتائے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس واپس لینا ہے یا غلطی درست کرنی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر نے کہا کہ آپ بتا دیں ہم وفاق کی درخواست پر کس کے خلاف فیصلہ دیں گے۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر سنگین غداری کیس درست فائل نہیں ہوا تو خصوصی عدالت میں درخواست دیں۔ اب جب فیصلے کا وقت آیا تو وفاق نے کہا خصوصی عدالت کی تشکیل ہی درست نہیں۔

سیکرٹری قانون نے عدالت کو بتایا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کابینہ سے منظوری کے بعد ہوئی جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اگر قانون کے مطابق خصوصی عدالت بنی تو پھر آپ نے اسے گراؤنڈ کیوں کیا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ ۔ (فائل فوٹو)

سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ جب کوئی ملزم اشتہاری ہو جائے تو اس کی طرف سے کوئی وکالت نامہ داخل نہیں کرایا جا سکتا۔ عدالت نے ملزم پرویز مشرف کے لیے وکیل مقرر کیا جو عمرے پر گئے تو اُنہیں بھی نہیں سنا گیا۔ جب ملزم کی مرضی کے وکیل کو نہیں سنا جا رہا تو فیئر ٹرائل تو وہیں پر کمپرومائز ہو گیا۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل کے دوران کہا کہ نو اکتوبر 2018 کو وکالت نامہ داخل کیا، اس وقت پرویز مشرف مفرور تھے اور 12 جون 2019 کو مجھے پرویز مشرف کی طرف سے پیش ہونے سے روک دیا گیا۔ میرا کیس یہ ہے مجھے کیوں نکالا، وکیل کے اس بیان پر کمرہ عدالت میں قہقہوں کی گونج سنائی دی۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا "کیا خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو وڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی آپشن دی؟ ” جس پر ان کے وکیل نے کہا کہ جی عدالت نے آپشن دیا ہے مگر انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ پرویز مشرف بیمار ہیں اور اس پوزیشن میں نہیں کہ اسکائپ پر بیان ریکارڈ کرا سکیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پراسیکیوشن کا کام ہے کہ ملزم کے حق میں بھی کوئی مواد ہو تو سامنے لائے، ورنہ فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔

Loading...

Comments are closed.