صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی، آگے کیا ہو گا؟

امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ ارکان کی طرف سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی اب اگلے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی میں دو ہفتے تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد اب ڈیموکریٹ جوڈیشری کمیٹی چار دسمبر کو مواخذے کی کارروائی آگے بڑھائے گی۔

منگل کو انٹیلی جنس کمیٹی نے مزید دو گواہوں کے بیانات کی نقول جاری کی ہیں۔ جس میں وائٹ ہاؤس میں بجٹ سے متعلقہ امور کے ایک اہلکار مارک سینڈی بھی شامل تھے۔ مارک سینڈی نے بیان دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے انہیں یوکرین کی فوجی امداد روکنے کی بلواسطہ ہدایت کی گئی تھی۔

مارک سینڈی نے بتایا کہ 12 جولائی کو وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف آفس کے ذریعے انہیں مطلع کیا گیا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین کے لیے فوجی امداد روک لی ہے۔ ان کے بقول 25 جولائی کو امداد روکنے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کیوں ہو رہی ہے؟

امریکہ کے صدر پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ سابق نائب صدر اور 2020 کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے متوقع حریف جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات شروع کرائیں۔

صدر ٹرمپ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے دباؤ ڈالنے کے لیے یوکرین کی فوجی امداد روکنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ البتہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیانات اور ٹوئٹس کے ذریعے اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو مذاق اور انتقامی کارروائی قرار دیتے رہے ہیں۔

ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی میں دو ہفتے تک مواخذے کی کارروائی جاری رہی۔

اس ضمن میں 25 جولائی کو صدر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادی میر زیلینسکی کی ٹیلی فونک گفتگو پر بھی گواہان سے سوالات کیے جا رہے ہیں۔

‘صدر ٹرمپ حاضر ہوں’

ڈیموکریٹ پارٹی کی ہاؤس جوڈیشری کمیٹی نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ہاؤس کے سامنے پیش ہوں اور گواہان سے سوالات کریں۔ اس ضمن میں چیئرمین جیرولڈ نیڈلر نے صدر ٹرمپ کو خط بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ خود وضاحت کے لیے آئیں گے۔

جیرولڈ نیڈلر کا کہنا ہے کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ ذاتی طور پر اس کارروائی میں شریک ہوں گے۔ یہ ایک اہم اور سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے اور ہمیں ابھی بہت کام کرنا ہے۔”

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ چار دسمبر کو جوڈیشری کمیٹی کی پہلی سماعت کے دوران برطانیہ میں نیٹو کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ تاہم کمیٹی نے وائٹ ہاؤس سے کہا ہے کہ وہ اتوار تک انہیں آگاہ کرے کہ آیا صدر ٹرمپ خود پیش ہوں گے یا ان کا وکیل پہلی سماعت میں شرکت کرے گا۔

ماہرین کے مطابق اگر ڈیموکریٹ اراکین شیڈول کے تحت مواخذے کی کارروائی جاری رکھیں تو وہ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں صدر ٹرمپ پر فرد جرمِ عائد اور کرسمس کی چھٹیوں سے قبل مواخذے کے لیے ووٹنگ کرا سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹ اراکین کی جانب سے شروع کی گئی مواخذے کی کارروائی میں صدر ٹرمپ کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام بنیادی نکتہ ہے۔ ڈیمو کریٹس کی جانب سے صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے دوران مِلر رپورٹ کا حوالہ دیے جانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال خصوصی تفتیش کار رابرٹ مِلر نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات سے متعلق رپورٹ کانگریس میں پیش کی تھی۔

رپورٹ میں رابرٹ ملر نے صدر ٹرمپ کو اس الزام سے بری نہیں کیا تھا کہ انہوں نے تحقیقات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔

انٹیلی جنس کمیٹی کی سماعت کے دوران کیا ہوا؟

امریکی ایوانِ نمائندگان کی ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی دو ہفتے تک جاری رہی۔

اس دوران امریکہ کے یورپی یونین کے لیے سفیر گورڈن سونڈلینڈ کی گواہی کو سب سے اہم سمجھا جا رہا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی جولیانی کے ساتھ یوکرین پر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

امریکہ کی ‘قومی سیکیورٹی کونسل’ میں یورپین معاملات کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل ایلگزینڈر ونڈمین نے سفیر گورڈن سونڈلینڈ کا حوالہ دیتے ہوئے گواہی دی تھی کہ یوکرین کے صدر زیلینسکی کو کہا گیا تھا کہ اگر وہ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک ‘خاص’ نوعیت کا کام کرنا ہو گا۔

ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے تفتیش کا عمل مکمل کر لیا ہے اور جلد حتمی رپورٹ مرتب کر کے ہاؤس جوڈیشل کمیٹی کے سپرد کر دے گی۔

دو ہفتے تک جاری رہنے والی تحقیقات کے دوران درجنوں سرکاری اہلکاروں نے اپنے بیانات قلم بند کرائے ہیں۔ جن میں اکثریت نے یہ شہادت دی کہ صدر ٹرمپ نے اپنے ذاتی وکیل روڈی جولیانی کے ذریعے یوکرین پر دباؤ ڈالنے کے لیے ‘بے قاعدہ’ سفارتی ذرائع استعمال کیے۔

قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن گواہی کے لیے پیش نہیں ہوئے تھے۔ (فائل فوٹو)

قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن گواہی کے لیے پیش نہیں ہوئے تھے۔ (فائل فوٹو)

البتہ اہم عہدوں پر فائز شخصیات نے صدر ٹرمپ کے احکامات پر کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کی تھی۔ جن میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو، قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن، سیکریٹری توانائی رک پیری اور وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف مائیک مولوینے بھی شامل ہیں۔

ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ سے میزبان نے سوال کیا تھا کہ روڈی جولیانی صدر کے توسط سے یوکرین میں کیا کر رہے تھے؟ جس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ انہیں معلوم نہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ روڈی جولیانی ان کے کہنے پر یوکرین نہیں گئے تھے۔

آگے کیا ہو گا؟

قوانین کے تحت امریکی ایوانِ نمائندگان مواخذے کی کارروائی مکمل کر لے تو پھر یہ معاملہ امریکی سینیٹ میں زیرِ بحث آتا ہے۔ موجودہ امریکی سینیٹ میں ری پبلکن اراکین اکثریت میں ہیں۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معروضی سیاسی حالات میں اچانک تبدیلیاں رونما نہ ہوں تو سینیٹ صدر ٹرمپ کو ان الزامات سے بری کر سکتی ہے۔

امریکی سینیٹ 2020 کے اوائل میں صدر ٹرمپ کے خلاف ٹرائل کا آغاز کر سکتی ہے۔ لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ سینیٹ یہ ٹرائل مکمل کرنے میں کتنا عرصہ لے گی اور کن لوگوں کو گواہی کے لیے طلب کیا جائے گا۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے 31 اکتوبر کو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی منظوری دی تھی۔ ایوانِ نمائندگان کے 232 اراکین نے مواخذے کے حق میں جب کہ 196 نے اس کے خلاف ووٹ دیے تھے۔

Loading...

Comments are closed.