بھارتی اشتعال انگیزی؛ چینی کنٹریکٹرز کا نیلم جہلم پروجیکٹ پر کام کرنے سے انکار

منصوبے پر 50 ارب روپے کا سالانہ قرضہ ہے اور قرض کی مد میں  ہر ماہ دو ارب روپے سود ادا کیا جارہا ہے، پروجیکٹ ڈائریکٹر

مزید خبریں

 اسلام آباد: ایل او سی پر بھارت کی جانب سے مسلسل گولہ باری کے باعث چینی کنٹریکٹرز نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے کے لئے تیار نہیں۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق جنید اکبر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پلاننگ کا اجلاس ہوا جس میں نیلم جہلم پاور پراجیکٹ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی، پراجیکٹ ڈائریکٹرمحمد زرین نے کہا کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ ایل او سی کے قریب ہے اور ایل او سی پر بھارت مسلسل گولہ باری کررہا ہے جس کی وجہ سے چینی کنٹریکٹرز نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے کے لئے تیار نہیں۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ نیلم جہلم پاور پروجیکٹ کا کچھ کام ابھی باقی ہے، پروجیکٹ 70 ارب روپے سے شروع ہوا اور 520 ارب روپے کا ہوگیا، منصوبے پر 50 ارب روپے کا سالانہ قرضہ ہے اور ہرماہ قرض کی مد میں 2 ارب روپے سود ادا کیا جارہا ہے۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ حکومت کو 60 ارب روپے کی بجلی فراہم کرچکے ہیں، دسمبر کے بعد نیلم جہلم پراجیکٹ کےملازمین کی تنخواہیں جاری نہیں کی جاسکیں، ملازمین کو تنخواہوں  کے لئے بینک سے ایک ارب کا قرضہ لیا گیا ہے، ہمارے پاس تنخواہیں  دینے کے لئے پیسے نہیں، وفاقی حکومت دسمبر تک رقوم ادا کرے۔

 

Loading...

Comments are closed.