صدر ٹرمپ کے مواخذے میں دنیا کی دلچسپی

مزید خبریں

جیسے جیسے صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا عمل اہم مراحل میں داخل ہو رہا ہے، دنیا بھر میں اس سیاسی ڈرامے سے متعلق دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی حریف کے خلاف معلومات حاصل کرنے کے لئے یوکرین پر دباؤ ڈالا۔ کانگریس میں صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

برطانیہ میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور برطانوی شہری اپنے سیاسی انتشار کا عکس امریکی سیاست میں دیکھتے ہیں۔ یونیورسٹی کالج لندن کے استاد تھامس گفٹ نے اس بارے میں کہا کہ امریکہ اور برطانیہ اپنے ہاں حکومتوں کےغیر فعال ہونے اور معاملات حل نہ کر پانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ میں ہر پانچ میں سے ایک شخص صدر ٹرمپ کے بارے میں اچھی رائے رکھتا ہے۔ مواخذے کا عمل دیکھنے والوں میں یہی رائے جھلکتی ہے۔

لندن کے ایک رہائشی ڈیو تھامس کہتے ہیں کہ اگر ایوان نمائندگان صدر ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت کرتا ہے تو میری خواہش ہے کہ سینیٹ ہمت کرے اور اس بارے میں کچھ کرے، کیونکہ ٹرمپ کو صدر نہیں ہونا چاہئے۔ ان کا مواخذہ ہونا چاہئے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں امریکہ کی سیاسی کشمکش کے بارے میں ملا جلا رد عمل پایا جاتا ہے۔ ایک طالب علم سیلینے نے کہا کہ ٹرمپ جب منتخب ہوئے تھے تو کچھ لوگ ان میں دلچسپی لے رہے تھے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اب ان کا تاثر زائل ہوگیا ہے۔ لوگوں کو اب ان کی زیادہ پروا نہیں۔

روس میں اس بارے میں بہت دلچسپی اور بظاہر صدر ٹرمپ کے لئے زیادہ حمایت بھی ہے۔ امریکہ بے شک روس کا مخالف ہے۔ لیکن، ضروری نہیں کہ روس کے صدر پیوٹن اپنے امریکی ہم منصب کی سیاسی مشکلات کا خیرمقدم کریں۔

رشین کونسل آن انٹرنیشنل افیئرز کے آندرے کورٹنوف کہتے ہیں کہ صرف ایک مضبوط امریکی صدر ہی روس کے ساتھ مسائل حل کر سکتا ہے۔ اگر صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوگی تو ان کی پوزیشن یقینی طور پر کمزور پڑے گی۔

ایک ارب سے زائد آبادی والے بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے ۔ وہاں مواخذے کے اصول کو قابل تحسین سمجھا جاتا ہے۔

ایک فلاحی تنظیم کی رکن دیپکا ننجپا نے کہا کہ مواخذے کی کارروائی کا مطلب ہے کہ امریکہ کا نظام شفاف ہے اور جمہوریت اپنا کام کر رہی ہے۔

مصر کے ایک شہری کو صدر ٹرمپ کے معاملے میں اپنی قیادت کے اعمال کی گونج سنائی دیتی ہے۔ سمیش غنیم کان کنی کے انجینئر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی صرف اپنے مفاد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جب ان کا مفاد ہوگا تو دوسروں کی بد عنوانیاں تلاش کریں گے۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ میں عوام کے رائے منقسم ہے۔ ریسٹورنٹ شیف خانی سلے شونگ وے نے کہا کہ ان کے خیال میں صدر ٹرمپ ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ انہیں ہٹانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

ایک اور شہری جوزف میسا کا خیال تھا کہ صدر ٹرمپ نے امریکہ کے لئے کوئی اچھا کام نہیں کیا اس لئے انھیں ہٹا دینا چاہئے۔

مواخذے کی کارروائی آئندہ برس بھی جاری رہے گی جب امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے ہیں۔ اس وقت تک دنیا بھر کی نظریں یہاں ہونے والی ہر سیاسی چال اور کارروائی پر جمی رہیں گی۔

Loading...

Comments are closed.