ٹرمپ کا سیاسی فائدے کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالنا قابل مواخذہ جرم ہے: امریکی ماہرین قانون

مزید خبریں

امریکی آئین کے تین ماہرین نے بدھ کو امریکی ایوان نمائیندگان کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کا ذاتی سیاسی فائدے کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالنا قابل مواخذہ جرم ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر نوہا فیلڈمین نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی سے سابق امریکی نائب صدر اور دو ہزار بیس کے امریکی صدارتی انتخاب میں ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کے حریف جو بائیڈن کے خلاف تفتیش کرنے کا کہنا شدید اور قابل گرفت جرم کا ارتکاب تھا اور امریکی دستور کے مطابق صدر کا مواخذہ ہوسکتا ہے۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی قانون کی پروفیسر پامیلہ کارلن نے کہا کہ امریکی صدر کو چاہیے کہ وہ امریکی انتخابات میں غیر ملکیوں کو مداخلت کی پیش کش سے باز رہیں، نہ کہ خود اس کی دعوت دیں۔

انھوں نے یوکرین کے صدر سے صدر ٹرمپ کی درخواست کے بارے میں کہا کہ یہ ’اختیارات کے ناجائز استعمال‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سے وابستہ قانون کے پروفیسر مائیکل گرہارٹ نے ایوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی کو بتایا، ’’اگر کانگریس صدر ٹرمپ کا مواخذہ کرنے میں ناکام رہی تو یہ سمجھا جائے گا کہ مواخذے کے عمل کا مقصد ضائع ہوچکا ہے۔ آئین میں امریکی سرزمین پر بادشاہت قائم کرنے کے خلاف احتیاط برتنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ صدر سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔‘‘

دوسری جانب صدر ٹرمپ کی حمایت کرنے والے ری پبلیکنز نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر جوناتھن ترلے کو مباحثے میں شامل کیا جنھوں نے بتایا تھا کہ 2016ء میں انھوں نے ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیا تھا۔ لیکن صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے لیے درکار ثبوت نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ انھیں عہدے سے ہٹانے کے لیے ڈیموکریٹس غصے میں بھرے بیٹھے ہیں۔

پروفیسر ترلے نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جولائی کے اواخر میں زیلنسکی سے کیا گیا مطالبہ ناکافی ثبوت ہے۔ اس بنا پر ان کے خلاف مواخذہ نہیں ہوسکتا۔

امریکہ کی 243 سالہ تاریخ میں یہ چوتھا واقعہ ہے کہ کسی امریکی صدر کو مواخذے کی باضابطہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آئینی ماہرین نے تاریخی حوالے دے کر بتایا کہ ملک کے بانیوں نے آئین میں درج کیا ہے کہ اگر صدر سے ’’غداری، رشوت یا قابل گرفت جرائم‘‘ سرزد ہوں تو انھیں مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

قانونی ماہرین فیلڈمین، کارلن اور گرہارٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے جو جرائم سرزد ہوئے ہیں، آئین کی رو سے ان پر گرفت ہوسکتی ہے۔ انھوں نے صدر کے ان اقدامات کو اختیارات سے تجاوز قرار دیا۔

فیلڈمین نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ کو ان مبینہ جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، تو اس کا مطلب ہوگا کہ ’’ہم جمہوری دور میں نہیں رہتے۔‘‘

Loading...

Comments are closed.