فرانس میں پنشن اصلاحات کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا دوسرا روز

مزید خبریں

فرانس میں جمعے کو پنشن کی اصلاحات پر ملک گیر ہڑتال کے دوسرے روز کئی علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج رہے۔ ہزاروں افراد نے ہڑتال میں شرکت کی جس سے پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہو گئی۔ تعلیمی اداروں اور اسپتال کے عملے میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے کارکن پنشن سے متعلق صدر ایمانوئیل میکخواں کی اصلاحات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جن میں ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ اور زیادہ کام کا کہا گیا ہے۔

کارکن پنشن کے نظام کی اصلاحات کے منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس کے قواعد کے پیش نظر اکثر کارکن یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب انہیں پنشن لینے کے لیے مزید کئی برس تک نہ صرف کام کرنا پڑے گا، بلکہ زیادہ کام کرنا پڑے گا۔ مظاہرین کام کے حالات مزید بہتر بنانے اور ملازمت کی سیکیورٹی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

ایک ریٹائرڈ شخص کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں سے پنشن کی اصلاحات کارکنوں کے لیے آخری دھچکا ہیں۔ ہم ہر چیز کھو رہے ہیں، خواہ وہ بے روزگاری الاؤنس ہو یا سرکاری شعبے میں ملازمتوں کی کٹوتیاں، یا روزانہ کی مزدوری۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانس کی معمر آبادی کے ساتھ پنشن کا موجودہ نظام زیادہ عرصے نہیں چل سکتا۔ صدر ایمانوئیل میکخواں کہتے ہیں کہ یہ نظام غیر منصفانہ اور بہت مہنگا ہے۔ وہ فرانس میں پنشن کے اس نظام کو سادہ بنانا چاہتے ہیں جس میں مراعات اور ریٹائرمنٹ کی مختلف عمر کے ساتھ 40 مختلف منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر سرکاری شعبے کے وہ ملازم جو خاص طور پر سخت اور زیادہ فعال قسم کی ملازمتیں کرتے ہیں وہ جلد ریٹائر ہو سکتے ہیں اور انہیں آمدنی کا کوئی نقصان نہیں ہو گا۔

انہوں نے عالمگیر نکات پر مبنی پنشن کی تجاویز پیش کی ہیں۔ ملازمین ہر روز اپنے کام پر پوائنٹس حاصل کریں گے۔ وہ جتنا زیادہ وقت کام کریں گے، انہیں پنشن بھی اتنی ہی زیادہ ملے گی۔

مزدور گروپ کے فلپ مارٹیز کہتے ہیں کہ فرانس کے لوگ ان تجاویز کو مسترد کرنے کے لیے متحد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سرکاری شعبے کو جسے مراعاتی شعبہ کہا جاتا ہے، بدنام کر کے لوگوں کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ تو اس کا جواب سڑک پر ہے، پرائیویٹ سیکٹر، پبلک سیکٹر ہر ایک یہاں ہے۔ ریٹائرڈ لوگ یہاں ہیں، نوجوان لوگ یہاں ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم سب کو اس خراب اور نقصان دہ پراجیکٹ پر تشویش ہے اور یہ کہ ہم سب یہاں یہ کہنے کے لیے موجود ہیں کہ ہم یہ پراجیکٹ نہیں چاہتے۔

میکخواں ریٹائرمنٹ کی کم سے کم عمر کو بھی 62 سال سے بڑھا کر 64 سال کرنا چاہتے ہیں، جو بہت سے دوسرے یورپی ملکوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر سے پھر بھی کم ہے۔ ٹرانسپورٹ کے فرانسیسی وزیر جین جباری کہتے ہیں کہ کچھ یونینز کے ساتھ گفت و شنید جاری ہے، لیکن یہ کہ ہڑتالیں اگلے ہفتے بھی جاری رہ سکتی ہیں۔

پیرس میں سڑکوں تک پر ٹریفک نسبتاً کم رہا اور جہاں تک میٹرو ٹرین کا تعلق ہے تو توقع سے زیادہ گاڑیاں چلائی گئی تھیں، خاص طور پر زیادہ رش کے اوقات میں۔

میکخواں کی اقتصادی اصلاحات نے اس سال مخالفت کے ایک سلسلے کو جنم دیا ہے جس میں معیار زندگی کی بہتری کا مطالبہ کرنے والی ’ییلو ویسٹ‘ تحریک سے لے کر پولیس، فائر فائٹرز، اساتذہ، اسپتال کے ملازمین اور وکلاء تک حالیہ مظاہروں میں شامل ہیں۔

Loading...

Comments are closed.