عقیدۂ توحید اور کردار سازی

اﷲ کی ذات و صفات اور عبادات میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک کہلاتا ہے۔

مزید خبریں

عقیدۂ توحید اسلامی تعلیمات کی بنیاد و اساس اور اسی پر دنیا و آخرت کی کام یابی کا انحصار ہے۔

توحید کا مطلب ہے: اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ہمارا خالق و مالک اور اسی کے لیے جینا اور مرنا ہے، اسی کی رضا کے مطابق پوری زندگی گذارنی ہے، اسی کا دوسرا نام ایمان باﷲ ہے۔ توحید کا زبان سے اقرار اور قلب سے تصدیق کو دخولِ اسلام کی پہلی اور لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔ یہ عقیدہ تمام انبیائے کرامؑ کے احکامات و ہدایات کا مشترک اور مرکزی نقطہ رہا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’ اور ہم نے آپؐ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، پس میری ہی عبادت کرو۔‘‘ (سورۃ الانبیاء)

توحید کا اقرار اور اﷲ کی ہستی کا احساس انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ چند آیات کا مفہوم پیش ہے: ’’اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو اپنے وجود پر گواہ کے طور پر ٹھہرایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں، ہم سب گواہ بنتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف)

’’ اور اگر تُو ان سے پوچھے کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہے تو وہ ضرور کہیں گے اﷲ نے۔‘‘ (سورۃ العنکبوت)

یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ اﷲ کی ہستی کا اعتراف و احساس انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ اس احساس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب کوئی انسان مصائب و آلام کے گرداب میں پھنس جاتا ہے اور اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا، ہر طرف تاریکی نظر آتی ہے تو اس کا فطری شعور بیدار ہوجاتا اور بالآخر باری تعالیٰ سے ہی اس گرداب سے نکلنے کی دعا کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم: ’’اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو پھیر لیتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لمبی چوڑی دعا میں لگ جاتا ہے۔‘‘ (سورہ حم السجدہ) یہ آیت مبارکہ ظاہر کرتی ہے کہ سُکھ آرام انسان کو غافل بنا دیتا ہے۔

جس کی وجہ سے انسان بیگانہ ہوجاتا ہے لیکن جب مصیبت میں گِھِر جاتا ہے تو اس کا فطری شعور بیدار ہوجاتا اور اپنے حقیقی مولا اور پروردگار کو پکار اٹھتا ہے۔ مصائب و آلام میں اﷲ کی طرف رجوع کرنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ انسان کی فطرت میں عبادات و اطاعت الٰہی کا جذبہ ودیعت ہے۔ ارشاد ربانی کا مفہوم: ’’ اﷲ نے اس بات کی گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہی گواہی فرشتے اور انصاف پر قائم رہنے والے عالم بھی دیتے ہیں۔‘‘ (سورہ آل عمران) قرآن مجید کی سورۂ اخلاص میں وحدانیتِ باری تعالیٰ کو جامع الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔

حضورؐ نے ایک موقع پر فرمایا: ’’ توحید تمام نیکیوں کی جڑ ہے۔‘‘ قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ نے وحدانیت بیان کرنے کے ساتھ ننانوے مزید صفاتی نام بیان کیے ہیں تاکہ ان سے انسان کے دل پر اﷲ کے حسن و احسان اور جلال کا تصور اچھی طرح واضح ہوجائے۔

اﷲ کی ذات و صفات اور عبادات میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک کہلاتا ہے۔ شرک توحید کی ضد اور ناقابل معافی گناہ کبیرہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ انسان کی سب خطاؤں اور غلطیوں کو معاف کردے گا لیکن شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ جیسا کہ سورۃ النساء میں ارشاد ربانی کا مفہوم ہے: ’’ بے شک اﷲ یہ جرم نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے علاوہ اور گناہ جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔‘‘ شرک سے گندے خیالات اور ناپاک ارادے پیدا ہوتے ہیں، اسی لیے اﷲ رب العزت نے قرآن پاک میں مشرکوں کو نجس اور ناپاک قرار دیا ہے۔

سورہ توبہ میں اﷲ کے ارشاد کا مفہوم: ’’بے شک مشرک ناپاک ہیں۔‘‘ سورہ لقمان میں ارشاد ربانی کا مفہوم ہے: ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ اس آیت میں شرک کو ظلم عظیم کہا گیا ہے۔ ظلم کسی چیز کے ناجائز استعمال کا دوسرا نام ہے۔ شرک ہمیشہ اپنے تمام اعضاء سے ان کی طبیعت اور فطرت کے خلاف کام لیتا ہے۔

یعنی اپنے خالق و مالک اور محسن کے احسانات بھلا کر اس کی اطاعت سے منہ موڑنے والا، اس کی دی ہوئی نعمتوں سے اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والا سب سے بڑا ظالم ہے، اسی لیے مشرک کی بخشش نہیں ہوگی۔ مشرک چوں کہ اپنی عقل اور فطری صلاحیتوں سے کام نہیں لیتا اسی لیے زندگی کے ہر میدان میں ناکامی اور گم راہی اس کا مقدر بن جاتی اور وہ کائنات میں ظلم و فساد کا داعی اور مددگار بن جاتا ہے۔ یوں اپنی آخرت بھی برباد کر بیٹھتا ہے۔

یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ شرک کا مطلب اﷲ تعالیٰ کے وجود کا انکار نہیں ہے، بل کہ اﷲ کے اقرار کے ساتھ کسی اور کو بھی اس کا شریک بنالینے کا نام بھی شرک ہے۔ مشرکین عرب بھی اﷲ کے منکر نہ تھے بل کہ وہ اپنے خود ساختہ معبودوں کو اﷲ تعالیٰ کے ہاں سفارشی سمجھتے تھے اور ان کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کا قرب تلاش کرتے تھے۔

سورۂ یونس میں ارشاد ربانی کا مفہوم: ’’اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اﷲ کے پاس۔‘‘ سورۂ الزمر میں ارشاد ربانی کا مفہوم: ’’ہم ان کی عبادت محض اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اﷲ کے ہاں ہمیں بہ لحاظِ درجہ قریب تر کردیتے ہیں۔‘‘ بعض امّتیں اپنے انبیاء اور اولیاء کرام کی تعظیم اور احترام میں حد سے زیادہ بڑھ گئیں، یہاں تک کہ انہیں اِلٰہہ ہی بنا ڈالا۔ بزرگوں اور اولیائے کرام نے کبھی مشرکانہ تعظیم اور ان سے مدد مانگنے کی تعلیم نہیں دی۔

بل کہ انہوں نے ہمیشہ صرف اﷲ تعالی کا قرب اور اسی کو کارساز و مددگار سمجھنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآن کریم نے شرک کی ان تمام صورتوں کو بیان کردیا ہے جو دنیا میں کبھی اور کسی جگہ بھی مشرکین میں رائج رہی تھیں۔ یہود حضرت عزیزؑ کو اﷲ کا بیٹا مانتے تھے اور عیسائی حضرت عیسیؑ کو، ان سب کی قرآن پاک میں صریح طور پر تردید کی گئی ہے۔

سورہ فرقان میں ارشاد باری کا مفہوم ہے جس میں شرک کی ایک قسم یہ بھی بیان ہوئی ہے: ’’ کیا تُونے اسے دیکھا جو اپنی خواہش کو معبود بناتا ہے۔‘‘ یہاں پر ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن پر صرف خواہشات کی حکم رانی ہوتی ہے۔ یعنی رب کائنات کی پرستش کرنے اور رسول ﷺ کی پیروی کرنے کے بہ جائے اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کی جاتی ہے۔ عصرِ حاضر میں اکثر لوگ اسی قسم کے شرک میں مبتلا ہیں۔

عقیدۂ توحید پر ثابت قدم رہنے کے لیے صرف ایک اﷲ پر ایمان لانا ہی کافی نہیں بل کہ ہر طرح کے شرک سے بچنا بھی ضروری ہے۔

کردار سازی کی تشکیل میں عقیدۂ توحید کے اثرات:

٭ وسعت نظری کا فروغ اور تنگ نظری کا خاتمہ: جب انسان اﷲ تعالٰی کو خالق کائنات تسلیم کرتا ہے تو اس کی نظر میں وسعت پیدا ہوجاتی اور اس کی نگاہ کا افق بھی لامحدود اور تنگ نظری کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ایک مسلمان زمین، نسل اور قوم کی پرستش نہیں کرتا بل کہ اس کی نظر وسیع اور آفاقی ہوتی ہے۔ ہر کلمہ گو مومن دوسرے مومن کو اپنا دینی بھائی سمجھتا ہے، خواہ وہ کہیں رہتا ہو اس طرح ایک عالم گیر معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

٭ عزتِ نفس: بندۂ مومن اﷲ تعالٰی ہی کو قوت و طاقت کا سرچشمہ مانتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ خوددار اور عزت نفس کا حامل ہوتا ہے۔ وہ کسی دنیاوی طاقت سے مرعوب نہیں ہوتا، اس کا سر کسی مخلوق کے آگے نہیں جھکتا۔ جب کہ کافر اور مشرک ان اوصاف سے عاری ہوتا ہے۔

٭ عجز و انکساری اور شکر گزاری: توحید کا عقیدہ راسخ ہوجائے تو بندۂ مومن عاجز اور منکسرالمزاج ہوجاتا ہے۔ غرور و تکبر سے بالکل دور رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ہر نعمت و عزت اور قوت ربِ کائنات کا عطیہ ہے، وہ جب چاہے چھین بھی سکتا ہے، یہ سوچ اس میں شکر گزاری اور عجز و انکساری کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

٭ صبر و تحمل اور اطمینان قلب: عقیدۂ توحید پر یقین کامل رکھنے والا انسان صرف اﷲ ہی کو اپنا سب سے بڑا سہارا اور مدد گار مانتا ہے۔ ہر مصیبت و آزمائش کو اﷲ کی طرف سے سمجھ کر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ نامساعد حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتا۔ اﷲ پر بھروسا کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مایوسی کفر ہے۔

٭ تقویٰ کی صفات: بندۂ مومن صرف واحد معبود حقیقی کے خوف کے سوا ہر قسم کے خوف اور ڈر سے نجات پالیتا ہے۔ ایک مومن جانتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ خلوت، جلوت، اندھیرا ہو یا اجالا اس کا ہر کام اور ہر فعل رب تعالیٰ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں۔ اسی لیے وہ اپنے ہر عمل کو حُسن و خوب صورتی سے انجام دیتا ہے، تاکہ اﷲ کی رضا و خوش نودی حاصل ہوسکے۔ یوں اﷲ کی ناراضی کا خوف غلط کام اور غیر اسلامی حرکات سے اسے بچاتا ہے اور پرہیزگار بندہ بناتا ہے۔

٭ خدمتِ خلق اور ہم دردی: خالق کائنات رحمٰن و رحیم ہے۔ وہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے، اس کی رحمت ہمارے گناہوں پر غالب آجاتی ہے، وہ اپنے بندوں کو معاف کردیتا ہے۔ عقیدۂ توحید پر کامل یقین کا حامل انسان اپنے اخلاق و عادات میں خدائی صفات پیدا کرنے کی سعی میں لگا رہتا ہے۔ اس کے نزدیک تمام انسان خدا کا کنبہ ہیں۔ اس طرح عقیدۂ توحید ہم دردی، غم گساری، مساوات، عجز و انکساری، عفو و درگزر، راست بازی اور خدمتِ خلق کے جذبات سے ہم کنار کرتا ہے۔

٭ قناعت و بے نیازی: عصر حاضر میں مادہ پرستی نے انسان کو حرص و طمع کا بندہ بنا دیا ہے۔ لامحدود خواہشات کی ایک دوڑ ہے جو پھر بھی ناتمام رہتی ہے۔ اس کے برعکس عقیدۂ توحید انسان میں استغنا اور قناعت پسندی پیدا کرتا ہے۔ وہ محدود وسائل کے باوجود قناعت کرتا ہے۔ دولت جمع کرنے کے لیے ناجائز ذرائع اختیار نہیں کرتا بل کہ ایمان داری کے ساتھ اﷲ پر بھروسا اور کامل یقین رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا انسان حسد، رشوت اور حرام رزق سے بچتا رہتا ہے۔

٭ اعمالِ صالح: توحید پر ایمان، عملِ صالح کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ کیوں کہ انسان کے تمام اعمال اس کے دل کے تابع ہوتے ہیں۔ اگر دل میں ایمان کا نُور موجود ہو تو عمل صالح ہوگا، کیوں کہ معاشرہ اسی وقت مثالی معاشرہ بن سکتا ہے جب لوگوں کے اعمال درست ہوں۔ نجات و فلاح کے لیے ایمان اور عمل صالح دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے قرآن کریم میں اکثر مقامات پر ارشاد ہوتا ہے: جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے۔ جس طرح کوئی درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے بالکل اسی طرح ایمان کی پہچان عملِ صالح سے ہوتی ہے۔ عقیدۂ توحید اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ نیک اعمال بجا لائے جائیں اور ہر طرح کے شرک سے بچا جائے۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں توحید کے مفہوم کو سمجھنے اس پر عمل کرنے اور شرک جیسی لعنت سے بچنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین

Loading...

Comments are closed.