زندگی کے مختلف ادوار – ایکسپریس اردو

انسان کی عمر کا کارآمد حصہ وہ ہوتا ہے جب وہ جوان ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل

مزید خبریں

اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’ اور ہم جس کو لمبی عمر دیتے ہیں تو ہم اس کی جسمانی بناوٹ کو (ابتدائی حالت کی طرف) الٹ دیتے ہیں۔ پس کیا وہ سمجھتے نہیں ہیں۔‘‘ (سورہ یٰس)

صاحب تبیان القرآن اس آیت کریمہ کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ کفار یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم دنیا میں بہت کم عرصہ رہے تھے، اگر ہم دنیا میں زیادہ عرصہ رہتے تو اے ہمارے رب! ہمارے ایمان و عمل میں کوئی کمی، کوئی کوتاہی نہ ہوتی۔ اﷲ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ان کے اس عذر کا رَد فرمایا ہے۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا تم کو یہ معلوم نہیں کہ تم دنیا میں اپنی عمر کے اس حصے تک پہنچے تھے جب تمہارے قویٰ کم زور ہوچکے تھے اور ہم نے تم کو اتنی لمبی زندگی دی تھی، جس میں تم اگر چاہتے تو غور و فکر کرکے ایمان لاسکتے تھے۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں جو شخص نصیحت قبول کرنا چاہتا وہ نصیحت قبول کرلیتا اور تمہیں اس عذاب سے ڈرانے والا بھی آچکا تھا۔

انسان کی زندگی مختلف ادوار میں گذرتی ہے اور اس کے جسم کی متعدد اور مختلف کیفیات کی ترتیب ہوتی ہے۔ اس کی ابتداء تراب (مٹی) سے ہوتی ہے۔ پھر یہ مٹی نبات کی شکل میں ڈھل جاتی ہے اور سبزہ اس کی غذا بنتا ہے اور غذا خون اور پھر نطفہ بناتی ہے۔ پھر نطفہ رحم میں جا کر علقہ (جما ہوا خون) بن جاتا ہے۔ پھر مضفہ (گوشت کی بوٹی) بن جاتا ہے۔ پھر اس کو ہڈیا ں پہنائی جاتی ہیں اور اس میں روح ڈالی جاتی ہے اور جب ماں کے پیٹ میں بچے کی شکل مکمل ہوجائے تو اس کو جنین کہتے ہیں، جب وضع حمل ہوجائے تو اس کو ولید کہتے ہیں۔

ماں کا دودھ پینے لگے تو اسے رضیع کہتے ہیں، ٹھوس غذا کھانے لگے تو اس کو فطیم کہتے ہیں، کھیلنے کودنے کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کو صبی کہتے ہیں، آنکھوں کو بھانے لگے تو اسے غلام کہتے ہیں، چہرے پر سبزہ پھوٹنے لگے تو اس کو مراھق کہتے ہیں۔ بلوغت کو پہنچ جائے تو اس کو بالغ کہتے ہیں، جوان ہو جائے تو شباب کہتے ہیں، پختہ عمر ہوجائے تو رجل کہتے ہیں، جب تیس سال کی عمر ہوجائے تو کہول کہتے ہیں، چالیس سال کی عمر ہو تو شیخ کہتے ہیں، ساٹھ سال کی عمر ہو تو شیخ فانی اور عمر ڈھلتے ڈھلتے جب موت کی دہلیز تک پہنچ جائے، ہڈیاں کم زور ہوجائیں، جسم لاغر ہوجائے، حافظہ کم زور ہوجائے تو اس کو ارزل عمر کہتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ میّت ہوجاتا ہے اور مرنے کے بعد پھر تراب یعنی مٹی ہوجاتا ہے اور مٹی سے اس کی ابتداء ہوئی تھی اور پھر بالاخر مٹی بن جاتاہے۔ (بہ حوالہ تبیان القرآن)

لہٰذا انسان کی عمر کا کارآمد حصہ وہ ہوتا ہے جب وہ جوان ہوتا ہے۔ عمر کے اس حصے کی قدر کرنا چاہیے اور اس عمر میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنی چاہییں۔

آپؐ نے فرمایا: ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو! اپنی زندگی کو موت آنے سے پہلے۔ اپنی فراغت کو مشغول ہونے سے پہلے۔ اپنی خوش حالی کو تنگ دستی سے پہلے۔ اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے۔ اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے۔‘‘ (المستدرک)

حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’ابن آدم قیامت کے دن اس وقت تک اپنے رب کے سامنے سے اپنے قدم ہٹا نہیں سکے گا، جب تک کہ اس سے اس کے متعلق سوال نہ کرلیا جائے کہ اس نے اپنی عمر کس چیز میں فنا کی۔ اس نے اپنی جوانی کوکن کاموں میں بوسیدہ کیا۔ اس نے اپنے علم کے مطابق کیا عمل کیا۔‘‘ (ترمذی)

قارئین کرام! عمر کا ہر حصہ اﷲ کی نعمت ہے لیکن ارذل عمر سے پناہ مانگنا چاہیے۔ حضرت سعدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نمازوں کے بعد ان چیزوں سے پناہ طلب کرتے تھے، مفہوم: ’’اے اﷲ! میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں اس سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے ارذل عمر کی طرف لوٹا دیا جائے اور میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ اس حدیث میں آپ ﷺ نے ارذل عمر سے پنا ہ مانگی ہے۔ یہ ارذل عمر ہے کیا ؟ اس کے بارے میں علامہ عینیؒ لکھتے ہیں: ’’ ارزل عمر سے مراد یہ ہے کہ انسان اس قدر بوڑھا ہو کہ کم زور ہوکر اپنے بچپن کی ابتدائی حالت کی طرف لوٹ جائے۔

اس کی سماعت اور بصارت کم زور ہوجائے۔ اس کی عقل کام نہ کرے اور سمجھ میں کوئی بات نہ آئے۔ وہ فرائض کو ادا نہ کرسکے اور اپنے ذاتی کام نہ کرسکے۔ اپنی پاکیزگی اور صفائی کا خیال نہ رکھ سکے۔ اور اپنے گھر والوں پر بوجھ ہوجائے اور وہ اس کی موت کی تمنا کرنے لگیں اور اگر اس شخص کا گھر بار نہ ہو اور وہ بالکل تنہا ہو تو اس سے بڑی اور کیا مصیبت ہوگی۔‘‘

اﷲتعالیٰ ایسی عمر سے ہم سب کو محفوظ فرمائے۔ یہ عام لوگوں کا حال ہے کہ چالیس سال کے بعد ان کا دور انحطاط شروع ہوجاتا ہے۔ ان کے اعصاب کم زور ہوجاتے ہیں اور جن لوگوں پر اﷲ کا خصوصی کرم ہوتا ہے۔ جیسے اولیائے کرام وہ ساٹھ سال کے بعد بھی مضبوط اور توانا ہوتے ہیں اور ان کے حواس قائم رہتے ہیں۔

حضرت عطاء نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ (سورہ النحل کی آیت میں ارذل عمر کا جو تذکرہ ہے) وہ مسلمانوں کے لیے نہیں ہے، مسلمان کی عمر جس قدر زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اس کی عزت اور کرامت بڑھتی جاتی ہے اور اس کی عقل اور معرفت بھی زیادہ ہوتی جاتی ہے اور حضرت عکرمہؓ نے کہا جو قرآن عظیم کی تلاوت کرتا رہتا ہے وہ ارذل عمر کی طرف نہیں لوٹایا جاتا۔ (بہ حوالہ: زادالمسیر)

Loading...

Comments are closed.