ہنڈیا بنائیے ذرا ’’نئی ترکیب‘‘ سے۔۔۔

کھانے کے کسی جزو کی موجودگی پتھر کی لکیر تو نہیں!

مزید خبریں

’’توبہ توبہ، آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں سبزیوں کی قیمتیں۔۔۔‘‘ راشدہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے بڑبڑائی۔

لائبہ نے آگے بڑھ کر ساس کے ہاتھ سے سبزی کا تھیلا پکڑا اور بولی ’’ کیا ہوا امی سب خیریت ہے؟‘‘

’’کہاں کی خیریت، مٹر 200 روپے کلو سے اوپر ،گاجر 50 روپے موسم کی کی سبزیاں ہیں پھر بھی قیمت نیچے آنے کے بہ جائے اوپر ہی جا رہی ہے اور ٹماٹر کی تو خیر بات ہی نہ کرو۔‘‘ راشدہ نے پانی پینے کے ساتھ ساتھ سبزی نامہ سنایا ۔

’’میری تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ گوبھی، بیگن، توری، اور دوسری کتنی ہی سبزیاں اور پھر کڑاہی گوشت یہ سب آخر ٹماٹر کے بغیر کیسے پک سکتے ہیں؟‘‘ انہوں نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔

’’ اچھا آپ پریشان نہ ہو ں، بس یہ بتائیں کہ آپ کیا لائی ہیں اور آج پکانا کیا ہے؟‘‘ لائبہ نے بات بدلتے ہوئے پوچھا۔

’’وہی گوبھی، اور توریاں سمجھ میں آئی تھیں، تو میں نے سوچا دو دن کی تو لے لوں ہفتہ بھر کے بہ جائے۔۔۔ کیا پتا ایک دو دن میں کچھ بھاؤ نیچے آجائیں، تو پھر لے آؤںگی، مگر ٹماٹر لینے کی ہمت ہی نہیں ہوئی اور اب یہی پریشانی ہو رہی ہوں کہ بغیر ٹماٹر یہ دونوں چیزیں کیسے پکیں گی؟‘‘

’’ارے آپ آرام کریں، میں سب کرلوں گی۔‘‘ لائبہ نے تسلی دی۔

’’ایک تو ہم کو سبزیاں فریج میں رکھنے کی عادت بھی نہیں، ورنہ فریزر کے کونے کھدرے سے ایک دو ٹماٹر تو نکل ہی آتے۔‘‘ انہوں نے پھر ٹماٹر کا رونا رویا اور لائبہ مسکراتی ہوئی باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی، دوپہر کو تو دونوں نے کل کا رکھا ہوا کھانا کھایا، رات کو جب دانش اور اس کے ابو دفتر سے آگئے، تو دسترخوان پر کھانا چُننے سے پہلے راشدہ نے پتیلی کھولی تو توری تیار تھی، وہ لائبہ سے پوچھنا چاہ ہی رہی تھی کہ یہ ٹماٹر کے بغیر کیسے پکالیں، مگر سب کے بھوک بھوک کا شور مچانے پر وہ خاموشی سے کھانا نکال کر لے آئیں۔

’’بھئی واہ، آج تو توری کا ذائقہ الگ ہی ہے۔‘‘ دانش کے ابو نے کہا تو دانش نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔

” اور آج وہ عجیب سی لال لال بھی نہیں ہے،کیا کسی نئی ترکیب سے بنائی ہیں، مزے کی کھٹی میٹھی سی ہیں۔‘‘ اس نے امی کی طرف دیکھ کر کہا۔

’’آج تو تم اپنی بیگم سے ہی پوچھو، ہم توبرسوں سے ٹماٹر میں پکاتے آرہے ہیں، آج ٹماٹر اپنی پہنچ سے دور تھے، تو میں نہیں لائی، مگر انہوں نے تسلی دی کہ میں کر لوں گی تو ہم نے بھی انہیں ہی سونپ دیا۔‘‘ راشدہ بولی۔

’’آج توری املی میں پکائی ہیں۔۔۔!‘‘ لائبہ نے انکشاف کیا۔

’’ہائیں ! املی میں۔۔۔!‘‘ راشدہ ایک دم اچھل پڑی، پھر بولی کہ ’’بھلا املی میں کیسے پک سکتی ہیں؟‘‘

لائبہ مسکرا دی ’’ امی سب جگہ کے الگ ذائقے ہوتے ہیں میں نے ایک ترکیب میں املی پڑھی، تو وہی ڈال دی، ویسے مزے کی بنی ہے، ہے نا؟‘‘

لائبہ کے میکے میں ہمیشہ املی میں ہی توری پکتی تھیں، مگر جب شادی ہوئی، تو سسرال میں ٹماٹر میں پکی ہوئی توری مشکل سے ہی حلق سے اتریں، اس کی کوشش تھی کہ ایک دفعہ تو وہ املی میں پکی ہوئی توری پکا کر کھلائے، تاکہ سب کو معلوم ہو کہ کتنے مزے کی بنتی ہے، اور آج گویا ٹماٹر مہنگے ہونے سے اس کا کام آسان ہوگیا تھا، لیکن اس کو پتا تھا کہ اگر اس نے یہ کہا کہ میکے میں اس طرح سے بنتی ہیں تو کسی نہ کسی کو اعتراض ہو سکتا تھا، ویسے بھی اس کی امی کا تو یہ کہنا تھا کہ کسی چیز کو بھی عادت نہ بناؤ کہ فلاں چیز کے بغیر تو یہ چیز پک ہی نہیں سکتی، دہی نہیں ہے تو ٹماٹر، ٹماٹر نہیں ہے تو املی اور اگر کیری کا موسم ہے، تو کیری، کھانا کھانے، اور کھلانے میں نخرہ کیسا۔۔۔

جب کہ بعض گھرانوں میں تو ایک ہرا دھنیا نہ ہونا بھی ہنڈیا بنانے کے لیے مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔

’’چلو ایک نئی ترکیب ہی معلوم ہوگئی اس بہانے، اچھا ذائقہ ہے، املی کے ساتھ بھی!‘‘ راشدہ نے بھی نئی ہنڈیا پر مہر ثبت کرتے ہوئے کہا۔

اور پھر لائبہ کل گوبھی دہی میں بنانی ہے۔۔۔!‘‘ راشدہ نے اطمینان بھرے انداز میں کہا۔

ارے کیا کہا؟ شکل عجیب سی ہوگی؟

کوئی بات نہیں، ایسا لگے تو آنکھیں بند کر کے ہی کھا لیجیے گا، ان شا اللہ ذائقے میں مایوسی نہیں ہوگی۔

پھر جب گوبھی پک رہی تھی، تو لائبہکی نند کا فون آیا، وہ بھی بہت پریشان تھی، تو راشدہ نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔

’’ ارے کیا ہوا ٹماٹر نہیں لائے تمہارے میاں تو، املی ڈال لو، دہی ڈال لو، کہہ دینا آج ایک ’نئی ترکیب‘ سے بنایا ہے کھانا۔۔۔‘‘

اور باورچی خانے میںکھڑی لائبہ یہ سن کر مسکرا دی۔

Loading...

Comments are closed.