ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی، الزامات کی فہرست پر بحث

امریکی ایوانِ نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے الزامات کی فہرست پر بحث کا آغاز کردیا ہے۔

بحث کے بعد کمیٹی ان الزامات کی رائے شماری کے ذریعے منظوری دے گی جس کے بعد یہ معاملہ ووٹنگ کے لیے ایوانِ نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔

بدھ کو ہاؤس جوڈیشری کمیٹی نے صدر ٹرمپ کے خلاف عائد کیے گئے الزامات پر بحث کی۔ صدر کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے یوکرینی ہم منصب پر سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالنے اور اس ضمن میں کانگریس کی تحقیقات میں رکاوٹ بننے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جیرولڈ نیڈلر نے کمیٹی میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ کا صدر اختیارات کا ناجائز استعمال کرے اور پھر اس ضمن میں ہونے والی تحقیقات میں بھی تعاون نہ کرے تو پھر کانگریس کا کردار بے معنی ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے تو امریکہ کا صدر پھر آمر بن جائے گا۔

بحث کے دوران ری پبلکن رکنِ کمیٹی ڈگ کولنز نے الزام لگایا کہ ڈیمو کریٹس مواخذے کے نتائج سے متعلق پہلے ہی پیش گوئیاں کر چکے ہیں۔ ان کے بقول صدر کے خلاف کارروائی کے لیے جو مواد پیش کیا گیا ہے، دستیاب شواہد سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ "آپ صدر کے خلاف کیس تیار نہیں کر سکتے، کیوں کہ کچھ ایسا ہوا ہی نہیں۔”

ڈیمو کریٹ رکن پرمیلا جے پال نے کہا کہ صدر کا رویہ سب کے سامنے ہے۔ اسے کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "صدر نے ٹی وی پر بتایا کہ انہوں نے یہ سب کچھ کیا ہے۔ صدر نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے غلط کیا۔ لہذٰا اپنے خلاف سب سے بڑے گواہ تو صدر خود ہیں۔”

بحث کے دوران ڈیمو کریٹس اراکین صدر کا دفاع کرنے پر ری پبلکن اراکین کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے جب کہ ری پبلکنز مواخذے کی کارروائی کو ناانصافی اور تعصب پر مبنی قرار دیتے رہے۔

جارجیا سے تعلق رکھنے والے ڈیمو کریٹ رکن ہینک جانسن نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے جمہوریت کے خلاف سنگین جرم کیا ہے۔ جس کا جواب دیتے ہوئے ری پبلکن رکن جم جارڈن نے صدر کے خلاف کارروائی کو بغض اور عناد کا شاخسانہ قرار دیا۔

جم جارڈن نے کہا کہ ڈیمو کریٹس ہمیں پسند نہیں کرتے۔ یہ نہ صرف صدر بلکہ ان کے حامیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق امکان ہے کہ جوڈیشری کمیٹی صدر کے خلاف مواخذے کے الزامات جمعرات کو منظور کرلے گی جس کے بعد یہ معاملہ ایوانِ نمائندگان کو بھیج دیا جائے گا۔ قوی امکان ہے کہ ایوانِ نمائندگان بھی صدر کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کی منظوری دے دے گا کیوں کہ ایوان میں ڈیموکریٹ ارکان کی اکثریت ہے۔

البتہ ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد یہ معاملہ امریکی سینیٹ میں ٹرائل کے لیے بھجوایا جائے گا جہاں ری پبلکنز کو اکثریت حاصل ہے۔

صدر ٹرمپ اور بعض ری پبلکن کی یہ رائے ہے کہ سینیٹ میں اس معاملے کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔ البتہ بعض ری پبلکنز کا یہ خیال ہے کہ اس معاملے میں گواہان کو بلا کر پورا وقت دیا جانا چاہیے۔

صدر ٹرمپ مواخذے کی کارروائی کو انتقامی کارروائی قرار دیتے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

صدر ٹرمپ مواخذے کی کارروائی کو انتقامی کارروائی قرار دیتے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

صدر ٹرمپ بھی ماضی میں اس بات کے حامی رہے ہیں کہ سینیٹ میں طویل مباحثہ ہونا چاہیے۔ تاہم اب ان سمیت متعدد ری پبلکنز کی یہ رائے ہے کہ معاملے کو زیادہ طول نہ دیا جائے۔

صدر کا یہ بھی اصرار رہا ہے کہ سینیٹ میں گواہی کے لیے جو بائیڈن کو بھی طلب کیا جائے۔ بعض ری پبلکنز کا یہ خیال ہے کہ اگر سینیٹ میں جو بائیڈن کو گواہی کے لیے بلایا گیا تو ڈیمو کریٹس بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلٰی عہدیداروں کا بلانے پر زور دیں گے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے 31 اکتوبر کو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی منظوری دی تھی۔ ایوانِ نمائندگان کے 232 اراکین نے مواخذے کے حق میں جب کہ 196 نے اس کے خلاف ووٹ دیے تھے۔

امریکہ کے صدر پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ سابق امریکی نائب صدر اور 2020 کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے متوقع حریف جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات کرائیں۔

صدر ٹرمپ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے دباؤ ڈالنے کے لیے یوکرین کی فوجی امداد روکنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ البتہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیانات اور ٹوئٹس کے ذریعے اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو مذاق اور انتقامی کارروائی قرار دیتے رہے ہیں۔

Loading...

Comments are closed.