پولنگ کا وقت ختم، بریگزٹ کا مستقبل داؤ پر

برطانیہ کے قبل از وقت عام انتخابات میں برطانوی ووٹروں نے جمعرات کو ووٹنگ میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں یورپی یونین سے علیحدگی کا طویل مدت کا انتظار ختم ہو سکتا ہے، جس کی انھوں نے 2016ء کے ریفرینڈم میں منظوری دی تھی۔

وزیر اعظم بورس جانسن اپنی انتخابی مہم کے دوران، ’’بریگزٹ ممکن بنایا جائے گا‘‘ کا اعلان کرتے رہے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن

انھوں نے کہا ہے کہ اپنی قدامت پسند پارٹی کے لیے پارلیمانی اکثریت کا حصول ان کی منزل مقصود ہے، جس سے انھیں یہ طاقت میسر آئے گی کہ وہ یورپی یونین کو خیرباد کہنے والی کوشش میں کامیاب ہو جائیں گے، اور 31 جنوری تک بریگزٹ پر عمل درآمد ہو گا۔

ان کے مد مقابل، لیبر پارٹی کے سربراہ، جیرمی کوربائن نے کہا ہے کہ اگر وہ جیت جاتے ہیں تو برطانیہ ایک نیا ریفرنڈم کرائے گا جس میں عوام سے پوچھا جائے گا آیا وہ یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں ہیں یا وہ اس 28 رکنی تنظیم میں رہنا پسند کریں گے۔

ووٹروں کی قطاریں

ووٹروں کی قطاریں

جانسن نے اپنی پیش رو، تھریسا مے کے بعد وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا، جو پارلیمان سے معاہدے کی منظوری لینے میں ناکام رہیں، جو انھوں نے یورپی یونین سے کر رکھا تھا۔

اپنے دورہ اقتدار کے دوران مے نے بریگزٹ کے لیے مذاکرات میں مضبوط حیثیت کے حصول کے لیے قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا، لیکن یہ فیصلہ ناکام رہا اور کنزرویٹو پارٹی کو کئی نشستوں پر شکست ہوئی۔

جمعرات کی ووٹنگ سے قبل، سامنے آنے والی جائزہ رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ جانسن کی پارٹی کو فوقیت حاصل ہے، لیکن کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

جمعے کی علی الصبح سرکاری نتائج متوقع ہیں۔

ادھر، ’ایگزٹ پولز‘ میں بتایا گیا ہے کہ کنزوریٹو پارٹی کو 368 جب کہ لبرل ڈیموکریٹس کو 191 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

Loading...

Comments are closed.